ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 63

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔ En
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
En
اور جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور پہاڑ ﻻکھڑا کردیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63) ➊ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تورات پر عمل کا عہد لیتے ہوئے ایک ہیبت ناک منظر پیدا فرما دیا، تاکہ وہ دل سے یہ عہد کریں۔ اس وقت وہ پہاڑ کے دامن میں تھے کہ زلزلے کے ساتھ پہاڑ اکھڑ کر «وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ» ان پر جھک گیا اور سائبان کی طرح ان پر سایہ فگن ہو گیا، حتیٰ کہ انھیں یقین ہو گیا کہ وہ ان پر گرنے ہی والا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۱)۔ یہ دسویں نعمت ہے، کیونکہ یہ عہد و میثاق ان کے فائدے ہی کے لیے تھا۔
➋ { مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ } کی وضاحت یہاں اگرچہ نہیں آئی، مگرکئی مقامات پر مذکور ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے، مثلاً: «{ وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ [المؤمنون: ۴۹] اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔
➌ { بِقُوَّةٍ } (قوت کے ساتھ پکڑنے) سے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل کرو۔ (مسند عبد بن حمید عن مجاہد)