ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 57

وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ اتارا، کھائو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں دی ہیں اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کیا کرتے تھے۔ En
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
En
اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزه چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہم پر ﻇلم نہیں کیا، البتہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57) صحرائے سینا میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا اور صحرا کی دھوپ انھیں جلائے دیتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل کا سایہ کر دیا اور کھانے کے لیے من و سلویٰ کا انتظام فرما دیا۔{ الْمَنَّ } کی تفسیر میں سب سے صحیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْكَمَأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَائُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ] [بخاری، الطب، باب المن شفاء للعین: ۵۷۰۸۔ مسلم: ۲۰4۹، عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ] کھمبی { مَنّ } میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ {مَنّ} متعدد چیزیں تھیں جو صحرا میں خود بخود پیدا ہوتی تھیں، ان میں سے ایک کھمبی بھی تھی۔ اسی طرح وہ میٹھی گوند بھی { مَنّ } کی ایک قسم تھی جو ابن عباس رضی اللہ عنھما اور مجاہد رحمہ اللہ سے { مَنّ } کی تفسیر میں آئی ہے۔ { السَّلْوٰى } اسم جنس ہے، اس کا واحد { سَلْواةٌ } آتا ہے، بٹیر یا بٹیر سے ملتا جلتا پرندہ ہے۔ صحرا میں اللہ کے حکم سے بے شمار پرندے آ جاتے اور وہ انھیں پکڑ کر کھا لیتے تھے۔