ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 46

الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۴۶﴾
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ En
اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
En
جو جانتے ہیں کہ بے شک وه اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) نماز کی پابندی ویسے تو ایک نہایت مشکل ذمہ داری ہے، مگر جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کا یقین ہے ان پر یہ بھاری نہیں ہے۔ یہاں ظن سے مراد یقین ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ [البقرۃ: ۴] اور آخرت پر وہی یقین رکھتے ہیں۔ [أضواء البیان]