ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 27

الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
En
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) اللہ کی کتاب سے ہدایت پانے کے بجائے گمراہ ہونے والے فاسقوں کی تین صفات ذکر کی گئی ہیں، اللہ کے عہد کو توڑنا، رشتہ داری اور دوسرے باہمی تعلقات قطع کرنا اور زمین میں فساد کرنا، جیسا کہ مشرکین نے اس عہد کو توڑا جو { «اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ» }کے ساتھ ان سے لیا گیا تھا۔ [الأعراف: ۱۷۲] یہود و نصاریٰ نے وہ عہد توڑا جو ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے لیا گیا تھا، کفارِ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے رشتہ داری کو قطع کیا اور منافقین نے زمین میں فساد پھیلایا اور یہ تینوں صفات کفار کے تمام گروہوں میں پائی جاتی ہیں۔