ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والاہے۔
En
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے
En
(آیت 261){فِيْسَبِيْلِاللّٰهِ:} قرآن مجید میں {”سَبِيْلِاللّٰهِ“ } کا لفظ عام یعنی اسلام کے معنی میں بھی آیا ہے، جیسے فرمایا: «اِنَّكَثِيْرًامِّنَالْاَحْبَارِوَالرُّهْبَانِلَيَاْكُلُوْنَاَمْوَالَالنَّاسِبِالْبَاطِلِوَيَصُدُّوْنَعَنْسَبِيْلِاللّٰهِ» [التوبۃ: ۳۴]”بے شک بہت سے عالم اور درویش یقینًا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔“ اس صورت میں اسلام کے ہر کام میں خرچ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنا ہے اور خاص معنوں میں بھی آیا ہے، جیسا کہ سورۂ توبہ(۶۰) میں صدقات خرچ کرنے کی جگہوں میں ایک { ”فِيْسَبِيْلِاللّٰهِ“ } ہے۔ وہاں { ”فِيْسَبِيْلِاللّٰهِ“ } سے خاص جہاد مراد ہے، نیز صحیح بخاری میں حج کو بھی اس میں شمار کیا ہے۔ یہاں اگرچہ عام معنی بھی مراد لیا جا سکتا ہے مگر جیسا کہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جہاد مراد لینا گزشتہ اور آئندہ آیات کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔