ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 241

وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾
اور ان عورتوں کے لیے جنھیں طلاق دی گئی ہے، کچھ نہ کچھ سامان دینا معروف طریقے سے (لازم) ہے، پرہیز گاروں پر یہ حق ہے۔ En
اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے
En
طلاق والیوں کو اچھی طرح فائده دینا پرہیزگاروں پر ﻻزم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 241) سورۂ بقرہ کی آیت (۲۳۶) میں ان مطلقہ عورتوں کو سامان دینے کا حکم تھا جنھیں نہ خاوند نے ہاتھ لگایا ہو اور نہ مہر مقرر ہوا ہو، جبکہ اس آیت میں تمام مطلقہ عورتوں کو اچھے طریقے سے کچھ سامان، کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دے کر رخصت کرنے کا حکم ہے، تاکہ عورت کی کچھ دل جوئی ہو جائے۔ یہ احسان کا تقاضا ہے۔