(آیت 207) اوپر اس شخص کا بیان ہوا ہے جو طلب دنیا کی خاطر دین و ایمان کو بیچ ڈالتا ہے، اب اس آیت میں اس شخص کا بیان ہے جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے مال ہی نہیں جان تک قربان کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّاللّٰهَاشْتَرٰىمِنَالْمُؤْمِنِيْنَاَنْفُسَهُمْوَاَمْوَالَهُمْ»[التوبۃ: ۱۱۱]”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں۔“ اس آیت کے اولین مصداق مہاجر صحابہ ہیں جنھوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور اپنی جائدادیں مکہ میں چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور انصار صحابہ جنھوں نے اپنے جان و مال سے ان کی مدد کی۔ {”بِالْعِبَادِ“} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ”ان بندوں“ترجمہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول صہیب رضی اللہ عنہ کو قرار دیا گیا ہے، جو قریش کے روکنے پر سارا مال ان کے حوالے کر کے ہجرت کر گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب صحابہ کا یہی حال تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں