ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 160

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۰﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ En
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
En
مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت160تا162) ➊ اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور آئندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب رضی اللہ عنھما نے کیا تھا)، ورنہ جو لوگ اس حالتِ کفر میں مر گئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔
➋ ا س آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہو گئی تھی۔