ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 147

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾٪
یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ En
(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
En
آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 147) ➊ { اَلْحَقُّ } میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ یہ حق کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔
➋ {الْمُمْتَرِيْنَ:} یہ { اِمْتِرَاءٌ } یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر { مِرْيَةٌ } (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)