(آیت 147) ➊ { ”اَلْحَقُّ“ } میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔ ➋ {الْمُمْتَرِيْنَ:} یہ {”اِمْتِرَاءٌ“} یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر { ”مِرْيَةٌ“ } (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔