ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 10

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾
ان کے دلوں ہی میں ایک بیماری ہے تو اللہ نے انھیں بیماری میں اور بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ En
ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
En
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ { فِيْ قُلُوْبِهِمْ: } خبر مقدم ہے، جس سے حصر پیدا ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ ان کے دلوں ہی میں کیا گیا ہے۔
➋ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اللہ کو دھوکا دے جو عالم الغیب ہے اور مومنوں کو دھوکا دے جن سے زیادہ فراست والا کوئی ہو نہیں سکتا اور سمجھے کہ میں دھوکا دینے میں کامیاب ہوں۔ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل ہی ایک ایسے مرض میں مبتلا ہیں جس نے انھیں خود فریبی کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ وہ مرض نفاق ہے جو کفر کو چھپانے کی کوشش کا نام ہے۔ اس بیماری سے بے شمار نفسیاتی بیماریاں مزید پیدا ہوتی اور بڑھتی چلی جاتی ہیں، مثلاً جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی، بد عہدی، بد زبانی جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اسی طرح فساد، خود پسندی، بے وقوفی، دو رخی جن کا ذکر آئندہ آیات میں ہے اور بہت سی دیگر بیماریاں مثلاً بزدلی، طمع، بخل، جہاد سے فرار وغیرہ جن کا ذکر سورۂ توبہ اور دیگر سورتوں میں ہے۔
➌ { بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ:} منافقین باطن میں کافر ہونے کی وجہ سے عذابِ عظیم کے مستحق تھے، اب اسلام کے جھوٹے دعوے کی وجہ سے عذابِ الیم یعنی دوہرے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔