ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ مريم (19) — آیت 80

وَّ نَرِثُہٗ مَا یَقُوۡلُ وَ یَاۡتِیۡنَا فَرۡدًا ﴿۸۰﴾
اور ہم اس کے وارث ہوں گے ان چیزوں میں جو یہ کہہ رہا ہے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔ En
اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا
En
یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ {وَ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ:} یعنی جس مال و اولاد پر یہ فخر کر رہا ہے اس کے ہلاک ہونے کے بعد ان سب کے وارث ہم بنیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ارشاد فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا وَ اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ [مریم: ۴۰] بے شک ہم، ہم ہی اس زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔
➋ {وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا:} یعنی قیامت کے دن جب ہمارے پاس آئے گا تو اس کے ساتھ نہ اولاد ہو گی، نہ مال اور نہ کوئی جتھا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴)۔