ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ مريم (19) — آیت 48

وَ اَعۡتَزِلُکُمۡ وَ مَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ ۫ۖ عَسٰۤی اَلَّاۤ اَکُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّیۡ شَقِیًّا ﴿۴۸﴾
اور میں تم سے اور ان چیزوں سے جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں ہوں گا۔ En
اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا
En
میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48) ➊ {وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یعنی تم سے اور تمھارے معبودوں سے تعلق توڑ کر جب میں اپنے اکیلے رب کو پکاروں گا تو مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں رہوں گا اور وہ کسی بھی مرحلے پر مجھے بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اشارے سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا رب تمھارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انھیں کتنا ہی پکارتے رہو، وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار بھی کہ اس پر میرا یا کسی کا زور نہیں، محض اس کے فضل سے امید ہے، کیونکہ اس اکیلے کو پکارنے والا کبھی بے نصیب نہیں رہتا۔
➋ ابراہیم علیہ السلام کی کفار سے اور ان کے بتوں سے علیحدگی اور ایمان لانے تک واضح دشمنی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۵۱ تا ۶۷)، سورۂ شعراء (۷۵ تا ۷۷) اور سورۂ ممتحنہ (۴)۔