ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ مريم (19) — آیت 34

ذٰلِکَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ ۚ قَوۡلَ الۡحَقِّ الَّذِیۡ فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۳۴﴾
یہ ہے عیسیٰ ابن مریم۔ حق کی بات، جس میں یہ شک کرتے ہیں۔ En
یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں
En
یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا، یہی ہے وه حق بات جس میں لوگ شک وشبہ میں مبتلا ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34){ ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ …: قَوْلَ الْحَقِّ } اصل میں {اَلْقَوْلَ الْحَقَّ} تھا، یعنی وہ بات جو حق اور سچ ہے، تخفیف کے لیے موصوف کو صفت کی طرف مضاف کر دیا، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سچ بات صرف وہ ہے جو یہاں خود ان کی زبانی بیان کر دی گئی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں اور ان کا نسب ہر شک و شبہ اور ہر عیب سے پاک ہے۔ رہے ان کی والدہ اور ان پر تہمت تراشنے والے یہود اور انھیں رب قرار دینے والے نصاریٰ، تو ان کی بات محض شکوک و شبہات پر مبنی ہے، اس میں حق کا کوئی شائبہ نہیں۔