ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 75

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۵﴾
کہا کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔ En
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
En
وه کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراه ره کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76،75){ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ:} کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا ان الفاظ میں تنبیہ پہلے سے سخت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ درگزر دو دفعہ ہوتی ہے، تیسری دفعہ کوئی معاف نہ کرے تو وہ حق بجانب اور معذور ہے اور یہ کہ استاذ اگر سمجھے کہ میں طالب علم کو نہیں پڑھا سکتا تو وہ عذر کر سکتا ہے۔