ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا ﴿۶۲﴾
پھر جب وہ آگے گزر گئے تو اس نے اپنے جوان سے کہا ہمارا دن کا کھانا لا، بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تو بڑی تھکاوٹ پائی ہے۔ En
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
En
جب یہ دونوں وہاں آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ ﻻ ہمارا کھانا دے ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { اٰتِنَا غَدَآءَنَا:} معلوم ہوا سفر کے لیے کھانا ساتھ لے جانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور توکل کے منافی نہیں اور یہ کہ بھوک، پیاس، تھکاوٹ، بھول چوک، غرض انسان کو پیش آنے والی چیزیں انبیاء علیہم السلام کو بھی پیش آتی ہیں، کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ آدمی کو جو عارضہ پیش آئے، اس کا ذکر کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے شکوے کا نہ ہو۔
➋ {لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا:} شاید اس تھکاوٹ کی وجہ اس نعمت کا احساس دلانا ہو کہ صحیح راستے پر طلب علم کے لیے جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شامل ہوتی ہے، جس سے تھکن نہیں ہوتی اور جب اس کی مدد نہ ہو تو انسان تھک کر رہ جاتا ہے۔