اور وہ تیرے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے پیش کیے جائیں گے، بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔
En
اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا
اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کئے جائیں گے۔ یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں
En
(آیت 48) {لَقَدْجِئْتُمُوْنَاكَمَاخَلَقْنٰكُمْاَوَّلَمَرَّةٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴) یہ خطاب آخرت کے منکروں سے ہو گا، جیسا کہ اس آیت کے آخر میں ہے: «بَلْزَعَمْتُمْاَلَّنْنَّجْعَلَلَكُمْمَّوْعِدًا» ”بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تُحْشَرُوْنَحُفَاةًعُرَاةًغُرْلاًقَالَتْعَائِشَةُفَقُلْتُيَارَسُوْلَاللّٰهِ! الرِّجَالُوَالنِّسَاءُيَنْظُرُبَعْضُهُمْإِلٰیبَعْضٍ؟فَقَالَالْأَمْرُأَشَدُّمِنْأَنْيُهِمَّهُمْذَاكِ][بخاری، الرقاق، باب الحشر: ۶۵۲۷]”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اس سے کہیں سخت ہو گا کہ انھیں اس بات کی سوچ آئے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ حدیث آئی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «كَمَابَدَاْنَاۤاَوَّلَخَلْقٍنُّعِيْدُهٗوَعْدًاعَلَيْنَااِنَّاكُنَّافٰعِلِيْنَ» [الأنبیاء: ۱۰۴]”جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔“ اس حدیث میں یہ بھی ہے: [ثُمَّإِنَّأَوَّلَالْخَلاَئِقِيُكْسٰیيَوْمَالْقِيَامَةِإِبْرَاهِيْمُ][بخاری، التفسیر، سورۃ الأنبیاء، باب: «کما بدأنا أول خلق نعیدہ وعداً علینا» : ۴۷۴۰، ۶۵۲۶]”پھر سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل بے لباس کفار ہی رہیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔