اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔
En
اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا
اور اس کے (سارے) پھل گھیر لئے گئے، پس وه اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے لگا اور وه باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وه شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا
En
(آیت 42){ وَاُحِيْطَبِثَمَرِهٖ …:} لفظی معنی ہے اس کے پھل کو گھیر لیا گیا، یعنی سب مارا گیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا اس مومن نے کہا تھا کہ رات اللہ کی طرف سے کسی عذاب مثلاً طوفانی بارش، یا سردی کی شدید لہر، یا آگ لگنے سے اس کا سارا باغ برباد ہو گیا، انگور چھتوں سمیت گر گئے اور صبح ہوئی تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کی عجیب تصویر کھینچی ہے، کیونکہ جب یک لخت صدمہ پہنچتا ہے تو آدمی پہلے گنگ رہ جاتا ہے، پھر کچھ سنبھلتا ہے تو بات کرتا ہے، یہ مشرک بھی اپنے باغ کی حالت دیکھتے ہی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیرنے لگا۔ اس سے دو صورتیں مراد ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ ایک دوسری پر ملنے لگا اور دوسری یہ کہ حسرت و افسوس سے الگ الگ ہی ان کو الٹ پلٹ کرنے لگا کہ ہائے ہائے! میں نے اس میں کس قدر رقم خرچ کی تھی، نفع کے بجائے اصل بھی گیا۔ اب اسے یاد آیا کہ مومن بھائی کی بات سچی تھی اور کہنے لگا، کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا، غرور و تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا، بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اور اپنی ساری شان و شوکت کو اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔