ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 40

فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾
تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کر دے اور اس پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل میدان ہو جائے۔ En
تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے
En
بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41،40){ صَعِيْدًا } میدان، { زَلَقًا } جس میں قدم پھسلتا ہو۔ اس مومن نے اپنے مغرور ساتھی سے کہا کہ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو تو یہ کوئی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں، عین قریب ہے کہ میرا رب دنیا میں یا آخرت میں مجھے تمھارے باغ سے بہتر عطا کر دے اور تمھارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج کر زمین کو چٹیل میدان بنا دے جہاں قدم پھسلتا ہو، یا وہ چشمہ جس سے اس کی نہر نکلتی ہے، اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تم کسی صورت اسے حاصل نہ کر سکو۔ دیکھیے سورۂ ملک کی آخری آیت۔