اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو توُ نے یہ کیوں نہ کہا ’’جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘‘اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔
En
اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے
En
(آیت 39){وَلَوْلَاۤاِذْدَخَلْتَجَنَّتَكَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی کوئی چیز اچھی لگے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں: «مَاشَآءَاللّٰهُلَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰهِ» ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: [يَاأَبَاهُرَيْرَةَ! أَفَلاَأَدُلُّكَعَلٰیكَنْزٍمِنْكَنْزِالْجَنَّةِتَحْتَالْعَرْشِ،قَالَقُلْتُنَعَمْفِدَاكَأَبِيْوَأُمِّيْ،قَالَأَنْتَقُوْلَلَاقُوَّةَإِلاَّبِاللّٰهِ،قَالَأَبُوْبَلْجٍوَأَحْسِبُأَنَّهُقَالَ: فَإِنَّاللّٰهَعَزَّوَجَلَّيَقُوْلُأَسْلَمَعَبْدِيْوَاسْتَسْلَمَ،قَالَفَقُلْتُلِعَمْرٍوقَالَأَبُوْبَلْجٍقَالَعَمْرٌوقُلْتُلِأَبِيْهُرَيْرَةَلَاحَوْلَوَلَاقُوَّةَإِلَّابِاللّٰهِفَقَالَ: لَاإِنَّهَافِيْسُوْرَةِالْكَهْفِ: «وَلَوْلَاۤاِذْدَخَلْتَجَنَّتَكَقُلْتَمَاشَآءَاللّٰهُلَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰهِ» ][مسند أحمد:335/2، ح: ۸۴۴۷]”اے ابوہریرہ! کیا میں تمھیں عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: ”ہاں! آپ پر میرے ماں باپ قربان!“ فرمایا: ”تم کہو {”لَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰهِ“} ابوبلج راوی کہتے ہیں، میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ مطیع ہو گیا اور اس نے اپنا آپ میرے سپرد کر دیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگرد نے پوچھا: {”لَاحَوْلَوَلَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰهِ“} تو انھوں نے فرمایا: ”نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے: «وَلَوْلَاۤاِذْدَخَلْتَجَنَّتَكَقُلْتَمَاشَآءَاللّٰهُلَاقُوَّةَاِلَّابِاللّٰهِ» “ شعیب ارنؤوط نے کہا کہ یہ روایت عرش کے لفظ کے بغیر صحیح ہے۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ نے {”لَاحَوْلَوَلَاقُوَّةَإِلَّابِاللّٰهِ“} کی یہی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [بخاری، القدر، باب لا حول ولا قوۃ إلا باللہ: ۶۶۱۰] باقی وہ روایات جن میں یہ کلمات پڑھنے سے نظر بد یا کسی بھی نقصان سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ (البانی) مگر ان کی فضیلت کے لیے آیت ہی کافی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔