ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 107

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے فردوس کے باغ مہمانی ہوں گے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 107){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} کفار کے بعد ان کے مقابل اہل ایمان کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ فردوس کا معنی وہ باغ ہے جس میں تمام باغوں کے درخت، پھول اور پودے ہوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَسْئَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ] جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور جنت کا سب سے اونچا مقام ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ [بخاري، التوحید، باب: وکان عرشہ علی الماء: ۷۴۲۳]