ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 90

وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿ۙ۹۰﴾
اور انھوں نے کہا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کرے۔ En
اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب وغریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کردو
En
انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان ﻻنے کے نہیں تاوقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 91،90) ➊ {وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا …: يَنْۢبُوْعًا نَبَعَ يَنْبِعُ} (ض،ن، ع) پھوٹ نکلنا، بروزن {يَفْعُوْلٌ} یاء مبالغہ کے لیے بڑھائی گئی ہے، وہ چشمہ جو ہمیشہ جاری رہے۔ { الْاَرْضِ } میں الف لام عہد کا ہے، یعنی اس مکہ کی سنگلاخ زمین سے جہاں پانی کا نشان نہیں۔ { يَنْۢبُوْعًا } کے مطالبے کا مقصد یہ ہے کہ انھیں صرف اتنا پانی کافی نہیں جو ان کی ضرورت پوری کرے، بلکہ بہت بڑا اور ہمیشہ جاری رہنے والا چشمہ جاری ہونا چاہیے۔
➋ کفار جب قرآن کے معجزے کا جواب نہ دے سکے تو انھوں نے اپنے ایمان لانے کے لیے مزید معجزوں کا مطالبہ داغ دیا، جیسا کہ لاجواب ہونے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ ان تمام مطالبات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کہنے کا حکم دیا وہ آگے آ رہا ہے۔