ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 89

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال پھیر پھیر کر بیان کی مگر اکثر لوگوں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کردیا۔ En
اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا
En
ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے تمام مثالیں بیان کردی ہیں، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 89) ➊ {وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۴۱) اور کہف (۵۴)۔
➋ {فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا:} یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔