(آیت 89) ➊ {وَلَقَدْصَرَّفْنَالِلنَّاسِفِيْهٰذَاالْقُرْاٰنِ …:} اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۴۱) اور کہف (۵۴)۔ ➋ {فَاَبٰۤىاَكْثَرُالنَّاسِاِلَّاكُفُوْرًا:} یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔