ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 84

قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔ En
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
En
کہہ دیجئیے! کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر عامل ہے جو پوری ہدایت کے راستے پر ہیں انہیں تمہارا رب ہی بخوبی جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 84) ➊ {قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ: شَاكِلَةٌ } وہ طریقہ جو کسی کا ہم شکل اور حسبِ حال ہو، یعنی ہر شخص اپنے اس طریقہ پر عمل کرتا ہے جو ہدایت یا گمراہی میں سے اس کے مطابق اور حسب حال ہوتا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی بد اور کوئی بین بین، سب ایک طریقے پر نہیں، نہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے، کیونکہ پھر امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۸، ۱۱۹)۔
➋ { فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا:} یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» ‏‏‏‏ [المؤمنون: ۵۳] ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔ اور ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحیح راستے پر سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ صحیح راستے پر چلنے والوں کا علم صرف تیرے رب کو ہے جو قیامت کے درمیان اپنے بندوں کے تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶)۔