ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 77

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾
ان کے طریقے (کی مانند) جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا اور تو ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ En
جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے
En
ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردوبدل نہ پائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77) { سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ …:} یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہو گئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۲۵) اور انفال (۳۳)۔