(آیت 77) { سُنَّةَمَنْقَدْاَرْسَلْنَاقَبْلَكَ …:} یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہو گئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۲۵) اور انفال (۳۳)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔