ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 75

اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾
اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب)کا مزہ چکھاتے، پھر تو اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مددگار نہ پاتا۔ En
اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے
En
پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا، پھر آپ تو اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 75){ اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ …:} اس لیے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق فرمایا: «يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ» ‏‏‏‏ [الأحزاب:۳۰] اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی برائی کا ارتکاب کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔