ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 63

قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾
فرمایا جا، پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو بے شک جہنم تمھاری جزا ہے، پوری جزا۔ En
خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)
En
ارشاد ہوا کہ جا ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہوجائے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63){قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ …:} شیطان کی درخواست قبول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نافرمان کی دعا بھی قبول کر لیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت نہیں، بلکہ بعض اوقات وہ ناراضگی کی وجہ سے دعا قبول کر لیتا ہے، مثلاً حرام کمائی اور عشق و بدکاری میں کامیابی کی دعا قبول ہونا رضائے الٰہی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔