اس نے کہا کیا تونے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔
En
(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا
اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اوﻻد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس میں کرلوں گا
En
(آیت 62) ➊ {قَالَاَرَءَيْتَكَهٰذَاالَّذِيْكَرَّمْتَعَلَيَّ …: ”اَرَءَيْتَكَ“} اصل {”أَرَأَيْتَ“} ہی ہے، کاف حرف خطاب ہے، جو مخاطب کے مطابق بدلتا رہتا ہے، مثلاً مخاطب واحد مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكَ“}، تثنیہ مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكُمَا“} اور جمع مذکر ہو تو {”أَرَأَيْتَكُمْ“}، معنی سب کا یہی ہے کہ ”کیا تو نے دیکھا“ مگر مراد ہوتی ہے {”أَخْبِرْنِيْ“} یعنی ”مجھے بتا۔“ {”اَرَءَيْتَكَ“} یہ اصل میں {”حَنَكٌ“} سے مشتق ہے جس کا معنی جبڑا ہے۔ عرب کہتے ہیں {”حَنَكْتُالْفَرَسَأَحْنُكُهُ“} (باب ضرب و نصر) {”وَاحْتَنَكْتُهُ“} میں نے گھوڑے کے (نچلے) جبڑے میں رسی باندھی اور اسے اپنے پیچھے چلایا۔ مراد یہ ہے کہ میں اس کی اولاد کو لگام کی طرح جبڑے میں رسی باندھ کر اپنے پیچھے چلاؤں گا۔ مگر یہ لفظ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے: {”لَأَسْتَوْلِيَنَّ“} ”میں ضرور ان پر غالب ہوں گا“ اور {”لَأَسْتَأْصِلَنَّ“} جو {”اِسْتَأْصَلَتِالسَّنَةُأَمْوَالَهُمْ“} سے اخذ کیا گیا ہے، یعنی قحط نے ان کے اموال کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ہلاک کر دیا۔ ➋ یعنی نہایت جرأت و تکبر سے اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا کہ مجھے بتا کہ یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یعنی جب بہتر میں ہوں تو تو نے اسے مجھ پر عزت کیوں بخشی؟! اس میں آدم علیہ السلام پر حسد کا اظہار بھی ہے، اللہ کے فرمان کے مقابلے میں اپنے عقلی ڈھکوسلے قیاس سے تعمیل حکم کا انکار بھی اور تکبر وسرکشی کا اظہار بھی اور ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں۔ ➌ { لَىِٕنْاَخَّرْتَنِاِلٰىيَوْمِالْقِيٰمَةِ …:} اس کی تفصیل سورۂ اعراف کی آیات (۱۴ تا ۱۷) میں دیکھیں۔ {”اِلَّاقَلِيْلًا“} سے مراد اللہ کے مخلص بندے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔