ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 22

لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا ﴿٪۲۲﴾
اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بنا، ورنہ مذمت کیا ہوا، بے یارومددگار ہوکر بیٹھا رہے گا۔ En
اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے
En
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بےکس ہو کر بیٹھ رہے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22){لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ …: مَخْذُوْلًا } وہ ہے جس کی مدد وہ چھوڑ دے جس سے اسے مدد کی امید ہو۔ اس آیت میں تمام اعمال کی بنیاد شرک سے پاک ہونا بیان فرمائی گئی ہے۔ بظاہر مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر درحقیقت ہر انسان اس کا مخاطب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک کا صدور کیسے ہو سکتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ بالفرض اگر اللہ کے ساتھ شریک بنانے کا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سرزد ہو جائے تو پھر آپ کی بھی کوئی تعریف کرنے والا ہو گا نہ کوئی مدد کرنے والا، بلکہ ہر ایک مذمت ہی کرے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۶۴ تا ۶۷)، حج (۳۱)، مائدہ (۷۲) اور نساء (۱۱۶)۔