اس نے کہا بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں اور یقینا میں تو اے فرعون! تجھے ہلاک کیا ہوا سمجھتا ہوں۔
En
انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے
En
(آیت 102){ قَالَلَقَدْعَلِمْتَمَاۤاَنْزَلَهٰۤؤُلَآءِ …:} یعنی مجھ پر تو کسی نے جادو نہیں کیا، مگر تو جو ان معجزات کو دیکھ لینے اور ان کے اللہ کی طرف سے ہونے کے یقین کے باوجود اپنی ضد پر قائم ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیری تباہی کے دن قریب آ گئے ہیں۔ {”ثُبُوْرٌ“} کا معنی ہلاکت ہے۔ دیکھیے فرقان (۱۴) اس مفہوم کی آیت سورۂ نمل کی آیت(۱۳) ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔