ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 61

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور اگر اللہ لوگوںکو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔ En
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
En
اگر لوگوں کے گناه پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا، لیکن وه تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے، جب ان کا وه وقت آجاتا ہے تو وه ایک ساعت نہ پیچھے ره سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت61) ➊ {وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ …: يُؤَاخِذُ } یہاں { يَأْخُذُ } کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورۂ فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔
➋ { النَّاسَ } سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کر سکا ہے نہ کر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ [عبس: ۲۳] ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا میں نیک و بد سب کو ایک وقت تک مہلت ملی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کبھی دنیا میں اللہ کی گرفت آ جائے تو سب نیک و بد، حتیٰ کہ چرند پرند وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے، پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اپنے ایمان اور نیت و عمل کے مطابق معاملہ ہو گا۔ اس مفہوم کی حدیث کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی { كِتَابُ الْبُيُوْعِ، بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الْأَسْوَاقِ (۲۱۱۸) } میں اس لشکر کا ذکر جو کعبہ پر حملہ کے لیے آئے گا۔