ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 52

وَ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الدِّیۡنُ وَاصِبًا ؕ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَتَّقُوۡنَ ﴿۵۲﴾
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور عبادت بھی ہمیشہ اسی کی ہے، پھر کیا اللہ کے غیر سے ڈرتے ہو۔ En
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو
En
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت52){وَ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: الدِّيْنُ } کا معنی یہاں فرماں برداری، مطیع ہونا اور عبادت ہے۔ { وَاصِبًا } (ہمیشہ) {وَصَبَ يَصِبُ {وَعَدَ يَعِدُ} وُصُوْبًا} جیسے فرمایا: «{ دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ [الصافات: ۹] بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔ یعنی آسمان و زمین صرف اللہ کے پیدا کردہ اور اس کی ملکیت ہیں اور اطاعت وعبادت بھی اسی کا دائمی حق ہے تو پھر ہر چیز کے مالک اللہ کے بجائے اس کے غیر سے ڈرتے ہو؟ کس قدر نادانی اور حماقت کی بات ہے۔