ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 5

وَ الۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾
اور چوپائے، اس نے انھیں پیدا کیا، تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان اور بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔ En
اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو
En
اسی نے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت5){وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ …: الْاَنْعَامَ نَعَمٌ} (ن اور ع کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں۔ { دِفْءٌ } گرمی، یہ سردی سے ٹھٹھرنے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے، {مَا يُدْفَأُ بِهٖ} جس کے ساتھ گرمی حاصل کی جائے، جیسا کہ {مِلْأٌ } جس کے ساتھ کسی چیز کو بھرا جائے۔ چوپاؤں کا ایک خاص فائدہ ان کی اون اور بالوں سے گرمی مہیا کرنے والا لباس اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلے ذکر فرما کر عام فوائد کا ذکر بعد میں فرمایا۔ { وَ مَنَافِعُ } اور بہت سے فائدے ہیں، مثلاً سواری کرتے ہو، ہل چلاتے ہو، پانی کھینچتے ہو، ان کا گوبر جلاتے ہو، کھیتوں میں بطور کھاد ڈالتے ہو، انھیں بیچ کر ضرورت کا ہر سامان خریدتے ہو۔ ان منافع میں {دِفْءٌ ٌ} بھی شامل ہے اور یہ بھی کہ ان کی نسل بڑھنے سے تمھاری دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور آخر میں ان منافع میں سے پھر خاص طور پر ایک نفع ذکر فرمایا کہ انھی سے تم کھاتے ہو، یعنی دودھ، دہی، ان سے بننے والی بے شمار چیزیں اور گوشت، الغرض، ان میں تمھارے کھانے کا سامان بھی ہے۔ یہ آیت اسی سورت کی آیت (۶۶) اور (۸۰) کے مشابہ ہے۔