ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 46

اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ فِیۡ تَقَلُّبِہِمۡ فَمَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
یا وہ انھیں ان کے چلنے پھرنے کے دوران پکڑلے۔ سو وہ کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں۔ En
یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
En
یا انہیں چلتے پھرتے پکڑ لے۔ یہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت46){اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ …: تَقَلُّبٌ} چلنا پھرنا، یعنی زندگی کی مصروفیات میں چلتے پھرتے، آتے جاتے اپنے شہر یا سفر میں کہیں بھی پکڑ لے۔ { بِمُعْجِزِيْنَ } یہ {أَعْجَزَ يُعْجِزُ إِعْجَازًا} باب افعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، لفظی معنی ہے عاجز کرنے والے، یعنی اگر اللہ چاہے تو انھیں چلتے پھرتے مصروفیت کی حالت میں پکڑ لے، پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں اور اللہ تعالیٰ کو پکڑنے سے عاجز کر دیں۔ { بِمُعْجِزِيْنَ } پر باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں کیا گیا ہے۔