ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 25

لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ وَ مِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾
تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے بھی جنھیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔ سن لو! برا ہے جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں۔ En
(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں
En
اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت25) ➊ {لِيَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹) اور سورۂ عنکبوت (۱۲، ۱۳) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًي، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا وَ مَنْ دَعَا إِلٰی ضَلاَلَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا] [مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۲۶۷۴]جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس کے لیے ان لوگوں کے اجر جتنا اجر ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جتنا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ آدم علیہ السلام کے قاتل بیٹے پر قیامت تک کے ہر ناجائز قتل کا بوجھ اس کی مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۳۱، ۳۲)۔
➋ یہ اللہ تعالیٰ کا عین عدل ہے کہ گمراہ کرنے والے اپنے گناہوں کا (جو انھوں نے خود کیے) کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جن کو گمراہ کیا ان کے سارے بوجھ نہیں بلکہ کچھ بوجھ اٹھائیں گے۔ { وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ } میں { مِنْ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان کے صرف ان گناہوں کو جو انھوں نے ان کے کہنے پر کیے۔ (شعراوی)
➌ { يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ:} اس سے تقلید کا رد نکلتا ہے، کیونکہ تقلید علم کی ضد ہے، اللہ اور رسول کی بات دین میں دلیل اور علم ہے، اس کے خلاف جو بھی ہے تقلید اور جہل ہے۔ یہاں بغیر علم گمراہ کرنے والوں اور ان کے پیچھے چل کر گمراہ ہونے والوں میں سے کسی کا عذر تقلید قبول نہیں ہو گا۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
{اَلْعِلْمُ مَعْرِفَةُ الْهُدٰي بِدَلِيْلِهِ
مَا ذَاكَ وَالتَّقْلِيْدُ يَسْتَوِيَانِ
إِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَائُ أَنَّ مُقَلِّدًا
لِلنَّاسِ وَالْأَعْمٰي هُمَا سِيَّانٖ}
علم ہدایت کو اس کی دلیل (قرآن و سنت) کے ساتھ پہچاننے کا نام ہے۔ یہ اور تقلید کبھی برابر نہیں ہو سکتے، کیونکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا اور اندھا دونوں برابر ہیں۔