(آیت24){وَاِذَاقِيْلَلَهُمْمَّاذَاۤاَنْزَلَرَبُّكُمْقَالُوْۤا …: ”اَسَاطِيْرُ“”أُسْطُوْرَةٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”اَعَاجِيْبُ“”أُعْجُوْبَةٌ“} کی۔ مراد بے اصل جھوٹی کہانیاں اور افسانے ہیں، یہ ان متکبر کفار کا قرآن مجید کے متعلق تبصرہ ہے جو وہ آپس میں کرتے اور اس کو پھیلاتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لیے ہیں، انھی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔