ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 24

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّا ذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
اور جب ان سے کہاجاتا ہے تمھارے رب نے کیا چیز اتاری ہے؟ تو کہتے ہیں پہلے لوگوں کی بے اصل کہانیاں ہیں۔ En
اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
En
ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت24){وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْۤا …: اَسَاطِيْرُ أُسْطُوْرَةٌ} کی جمع ہے، جیسے {اَعَاجِيْبُ أُعْجُوْبَةٌ} کی۔ مراد بے اصل جھوٹی کہانیاں اور افسانے ہیں، یہ ان متکبر کفار کا قرآن مجید کے متعلق تبصرہ ہے جو وہ آپس میں کرتے اور اس کو پھیلاتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لیے ہیں، انھی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔