ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے گزرنے والا، تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں، پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وه خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے واﻻ ہو تو یقیناً اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت115) ➊ {وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ:} یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دی جائے، مثلاً گنج بخش کا بکرا، چشتی اجمیری کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا، تو یقینا وہ جانور حرام ہو گیا اور { اُهِلَّ } کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے، کیونکہ { اُهِلَّ } کا معنی آواز بلند کرنا ہے، لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آ گیا اس میں ایسی خباثت آ گئی جو مردار میں بھی نہیں، کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا مگر { مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ } (جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے) میں اس جانور کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی۔ یہ آیت شریفہ قرآن میں چار مرتبہ آئی ہے، سورۂ بقرہ (۱۷۳)، مائدہ (۳)، انعام (۱۴۵) اور یہاں سورۂ نحل (۱۱۵) میں، تمام مقامات پر نظر ڈال لیں۔ اس کے معنی {مَا رُفِعَ الصَّوْتُ بِهِ لِغَيْرٍ } ہیں (یعنی جس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا جائے)، نہ کہ {مَا ذُبِحَ بِاسْمِ غَيْرِ اللّٰهِ} (یعنی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے)۔ گو یہ اس میں بطریقِ اولیٰ داخل ہے، جس کی بنا پر بعض مفسرین نے { اُهِلَّ } کی تفسیر {ذُبِحَ} کی ہے، جو اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر اور بیان واقعہ کے لیے ہے۔ ہمارے دور میں اس نئے شرک کا وقوع ہوا ہے، اس برصغیر پاک و ہند کے علماء نے اسے خوب حل فرمایا ہے اور شاہ عبد العزیز کی تفسیر عزیزی اس پر شاہد عدل ہے۔
➋ {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳)، مائدہ (۳) اور سورۂ انعام (۱۴۵)۔