ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النحل (16) — آیت 100

اِنَّمَا سُلۡطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوۡنَہٗ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِہٖ مُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
اس کا غلبہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور جو اس کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔ En
اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں
En
ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت100) {وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ: بِهٖ } میں{هُ} ضمیر شیطان کی طرف جائے تو باء سببیہ ہو گی اور معنی ہو گا کہ وہ لوگ جو اس(شیطان)کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔ متن میں ترجمہ اس کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف جائے، پھر معنی یہ ہو گا کہ وہ لوگ جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک بنانے والے ہیں، یہ معنی بھی درست ہے۔