ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 77

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ۷۷﴾
بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔ En
بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے
En
اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت77){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی ابراہیم اور لوط علیھما السلام کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ { لَاٰيَةً } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں { لَاٰيَةً } واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔