ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 73

فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشۡرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
پس انھیں چیخ نے روشنی ہوتے ہی پکڑ لیا۔ En
سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا
En
پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت73){ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ: اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ} سورج طلوع ہوا۔ اس سے پہلے آیت (۶۶) میں {مُصْبِحِيْنَ } کا لفظ ہے،یعنی صبح کے وقت۔ سورۂ قمر (۳۸) میں { بُكْرَةً } کا لفظ ہے، جس کا معنی دن کا پہلا حصہ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ صبح کے وقت عذاب شروع ہوا اور سورج چڑھنے تک جاری رہا۔ ایک تطبیق یہ ہو سکتی ہے کہ صبح نمودار ہونے سے لے کر سورج چڑھنے کے کچھ بعد تک سارے وقت کو عرف میں صبح کہہ لیتے ہیں اور ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ{ أَشْرَقَ يُشْرِقُ} مطلقاً تاریکی میں روشنی ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ صبح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اور سورج نکلنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا [الزمر: ۶۹] اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی۔ میں نے ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا ہے، تاکہ { مُصْبِحِيْنَ } کے ساتھ مطابقت رہے۔