(آیت69،68){قَالَاِنَّهٰۤؤُلَآءِضَيْفِيْ …: ”ضَيْفٌ“} کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت(۵۱) {”فَلَاتَفْضَحُوْنِ“} اور {”وَلَاتُخْزُوْنِ“} دونوں {”فَلاَتَفْضَحُوْنِيْ“} اور {”اَتُخْزُوْنِيْ“} تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بے عزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط علیہ السلام نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش {”وَاتَّقُوااللّٰهَ“} کہہ کراللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بے سود۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔