ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 57

قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اس نے کہا تو اے بھیجے ہوؤ! تمھارا معاملہ کیا ہے؟ En
پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے
En
پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت57){ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ:} غالباً ابراہیم علیہ السلام قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ [الحجر: ۸] ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔