(آیت42){اِنَّعِبَادِيْلَيْسَلَكَ …:} یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر {”عِبَادٌ“} سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہو گا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔