اور لوگوں کو اس دن سے ڈرا جب ان پر عذاب آئے گا، تو وہ لوگ جنھوںنے ظلم کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں قریب وقت تک مہلت دے دے، ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمھارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔
En
اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا
لوگوں کو اس دن سے ہوشیار کردے جب کہ ان کے پاس عذاب آجائے گا، اور ﻇالم کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں بہت تھوڑے قریب کے وقت تک کی ہی مہلت دے کہ ہم تیری تبلیﻎ مان لیں اور تیرے پیغمبروں کی تابعداری میں لگ جائیں۔ کیا تم اس سے پہلے بھی قسمیں نہیں کھا رہے تھے؟ کہ تمہارے لیے دنیا سے ٹلنا ہی نہیں
En
(آیت44) ➊ {وَاَنْذِرِالنَّاسَيَوْمَيَاْتِيْهِمُالْعَذَابُ …: } یعنی لوگوں کو اس دن سے ڈرایے۔ لوگوں سے مراد تمام لوگ ہیں، کیونکہ ڈرانے کی ضرورت تو نیک و بد ہر شخص کو ہے۔ اگرچہ اہل ایمان کی جزا کا بھی وہی دن ہے مگر یہاں مقام ڈرانے کا ہے، اس لیے اسی کا ذکر فرمایا، یا {”النَّاسَ“ } سے خصوصاً کفار مراد ہیں۔ عذاب کا دن ظالموں کے لیے دنیا میں کسی وقت اور کسی صورت میں ہو سکتا ہے، موت کا وقت بھی مراد ہے اور قیامت کا بھی۔ اس وقت کفار اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرنے اور رسولوں کی پیروی کرنے کے لیے مہلت مانگیں گے، مگر مہلت کہاں۔ اس مفہوم کی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)، سورۂ سجدہ (۱۲) اور منافقون (۹، ۱۰)۔ ➋ { اَوَلَمْتَكُوْنُوْۤااَقْسَمْتُمْمِّنْقَبْلُ …: ”زَوَالٍ“} کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، یا ایک حالت سے دوسری کی طرف منتقل ہونا ہے، یہاں مراد دوبارہ زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر آخرت کی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے انھیں کہیں گے کہ تم نے تو دنیا میں قسمیں کھائی تھیں کہ مرنے کے بعد ہمیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد انھیں ان کا ماضی یاد دلا کر مزید ذلیل و خوار کرنا ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَاَقْسَمُوْابِاللّٰهِجَهْدَاَيْمَانِهِمْلَايَبْعَثُاللّٰهُمَنْيَّمُوْتُبَلٰىوَعْدًاعَلَيْهِحَقًّاوَّلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَايَعْلَمُوْنَ }»[النحل: ۳۸]”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔ کیوں نہیں! وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ تم تو ایسے متکبر بن گئے اور موت کو بھول بیٹھے تھے کہ قسمیں اٹھاتے تھے کہ ہمارے عروج کو کبھی زوال نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔