اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، تو کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے تھے کہ بے شک ہم تمھارے تابع تھے، تو کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام آنے والے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمھیں ضرور ہدایت کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم گھبرائیں، یا ہم صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
En
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
سب کے سب اللہ کے سامنے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اس وقت کمزور لوگ بڑائی والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذابوں میں سے کچھ عذاب ہم سے دور کرسکنے والے ہو؟ وه جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی ضرور تمہاری رہنمائی کرتے، اب تو ہم پر بے قراری کرنا اور صبر کرنا دونوں ہی برابر ہے ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں
En
(آیت21){وَبَرَزُوْالِلّٰهِجَمِيْعًا …:”تَبَعًا“} یہ {”تَابِعٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”خَادِمٌ“} کی جمع {”خَدَمٌ“} ہے، یعنی اس دن دنیا میں چھپاؤ کی تمام جگہیں ختم ہو جائیں گی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، سمندروں کی گہرائیاں اور سطح زمین کی کُرویّت ختم ہو کر روٹی کی طرح صاف زمین پر ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گی۔ دنیا میں کمزور اور طاقت ور، مرید و مرشد، رعایا اور سردار ایک جیسی عاجزی اور بے بسی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوں گے، تو کمزور لوگ اپنے گمراہ کرنے والے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمھارے پیچھے چلنے والے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ سے کفر کیا، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے بچانے میں ہمارے کسی کام آ سکتے ہو؟ {”مِنْشَيْءٍ“} کا مطلب یہ ہے کہ سارا عذاب نہیں تو اس میں سے جتنا ہو سکے کم کروا دو۔ وہ سارا گناہ اللہ کے ذمے ڈال کر خود بری ہو کر ان کی کسی بھی قسم کی مدد سے معذرت کر لیں گے۔ چنانچہ کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمھیں ہدایت دیتے، گویا سارا قصور اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے ہمیں ہدایت نہیں دی۔ [اَلْعِیَاذُبِاللّٰہِ] جیسا کہ شیطان نے سجدے سے انکار کرکے اپنے گمراہ ہونے کو اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا، فرمایا: «{ قَالَفَبِمَاۤاَغْوَيْتَنِيْ }»[الأعراف: ۱۶]”کہا، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت دی تھی، دونوں راستے دکھا دیے تھے، فرمایا: «{اِنَّاهَدَيْنٰهُالسَّبِيْلَاِمَّاشَاكِرًاوَّاِمَّاكَفُوْرًا }»[الدھر: ۳]”بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔“ اب تمھارا اختیار تھا، نہ اس نے تمھیں بدی پر مجبور کیا نہ نیکی پر اور یہی آزمائش کی حکمت جن و انس کی پیدائش کا باعث تھی۔ خیر اب ایسے عذاب میں پھنس جانے کے بعد جس سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں، ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، گھبراہٹ کا اظہار کریں یا صبر کریں۔ دونوں کا کچھ فائدہ ہے نہ یہاں سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی یہ باہمی قیل و قال جہنم میں داخلے کے بعد ہوگی۔ دیکھیے سورۂ مومن (۴۷)، سورۂ اعراف (۳۸) اور سورۂ سبا (۳۲، ۳۳) بہرحال ان کا یہ جھگڑا میدان حشر اور جہنم دونوں میں بھی ہو سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔