ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 19

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۹﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے
En
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو بہترین تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر وه چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور نئی مخلوق ﻻئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت20،19) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ …: اَلَمْ تَرَ } کا معنی {اَلَمْ تَعْلَمْ} ہے، یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کسی چیز میں کوئی نہ نقص نکال سکتا ہے نہ کوئی ایسی صورت پیش کر سکتا ہے جو اس سے بہتر ہو۔ ہاں وہ خود اس سے بھی بہتر بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔
➋ { وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ:} اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ایسے کروڑوں عالم دم بھر میں مٹا کر نئے پیدا کر دے۔ { وَ يَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ } کا ایک معنی بعض اہل علم نے یہ بھی کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو تم سب کو دفعتاً ختم کرکے تمھیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کر دے۔ آگے آنے والی آیات جو حشر اور قیامت کے واقعات پر مشتمل ہیں اس معنی کی تائید کرتی ہیں۔