ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 34

لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾
ان کے لیے ایک عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ سے کوئی بھی بچانے والا نہیں۔ En
ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں
En
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیاده سخت ہے، انہیں اللہ کے غضب سے بچانے واﻻ کوئی بھی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت34) {لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …:} یعنی دنیا ہی میں بعض اوقات آسمانی آفات، بیماریوں، فاقوں اور مختلف مصیبتوں کے ذریعے سے عذاب ہو گا اور بعض اوقات مجاہدین اسلام کے ہاتھوں قید، قتل یا ذلیل ہوں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَارُكُمْ هٰذِهِ الَّتِيْ يُوْقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِيْنَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَكُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا] [مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منہا: ۲۸۴۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]تمھاری یہ آگ جو ابن آدم جلاتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر (۷۰) حصوں میں سے ایک حصہ ہے… سب کی گرمی اس کی مثل ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے بہت زیادہ سخت ہونے کا سب سے بڑا باعث یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فجر (۲۵، ۲۶) اور سورۂ فرقان (۱۱ تا ۱۵)۔