ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔
En
(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے
ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻدوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے
En
(آیت23) ➊ { جَنّٰتُعَدْنٍيَّدْخُلُوْنَهَا۠ …: } یہ {”عُقْبَىالدَّارِ“} سے بدل الکل ہے، یعنی وہ اچھا انجام ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ان کے باپ دادا، بیویاں اور اولادیں بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ {”عَدْنٍ“} جنت میں ایک مقام ہے، اس صورت میں ترجمہ ہو گا ”عدن کے باغات“ اور اس صورت میں یہ {”عُقْبَىالدَّارِ“} سے بدل البعض ہو گا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت پر فرمایا، یعنی انھیں اور ان کے پیاروں کو جنت میں اکٹھا کر دیا جائے گا، خواہ باپ ہوں یا گھر والے یا اولاد جو مومن ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ان کے ساتھ ٹھنڈی ہوں، یہاں تک کہ نیچے درجے والے کو اونچے درجے والے کی طرف بلند کر دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ اونچے درجے والے کا درجہ کم کیا جائے، محض اللہ تعالیٰ کے امتنان اور احسان کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَاتَّبَعَتْهُمْذُرِّيَّتُهُمْبِاِيْمَانٍاَلْحَقْنَابِهِمْذُرِّيَّتَهُمْوَمَاۤاَلَتْنٰهُمْمِّنْعَمَلِهِمْمِّنْشَيْءٍ }»[الطور: ۲۱]”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔“ ➋ {وَالْمَلٰٓىِٕكَةُيَدْخُلُوْنَعَلَيْهِمْ …:} جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آکر انھیں مبارک باد اور خوش خبریاں دیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔