ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 12

ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنۡشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴿ۚ۱۲﴾
وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے
En
وه اللہ ہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دﻻنے کے لئے دکھاتا ہے اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت12){هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید اور ڈر کے حامل ہیں، جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجب زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہو گی مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے، بادل دیکھ کر رحمت کی بارش کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں سیلاب نہ آ جائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امید وار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے۔