ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 95

قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ ﴿ٙ۹۵﴾
انھوں نے کہا اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا تو اپنی پرانی بھول ہی میں ہے۔ En
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
En
وه کہنے لگے کہ واللہ آپ اپنے اسی پرانے خبط میں مبتلا ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت95) {قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ …:} یعقوب علیہ السلام کے پاس اس وقت بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا، پوتوں نے بھی باپوں والا رویہ اختیار کیا۔ اب ان الفاظ کو ان کی طرف سے بابا کے لیے تسلی کہا جائے یا ملامت؟ واللہ! ان کا حق نہ تھا کہ دادا کو جو اللہ کے پیغمبر بھی تھے، یہ لفظ کہتے۔ ہاں ان کی طرف سے ایک عذر ہو سکتا ہے کہ بادیہ کے معاشرے میں باہمی بے تکلفی حتیٰ کہ والدین اور اولاد کے درمیان بھی بے تکلفی نے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہوں اور وہ اپنے خیال میں تسلی دے رہے ہوں کہ بابا! پرانی بات بھول بھی جاؤ، مگر جو اتنے سال بھلایا نہیں جا سکا اب ایسی باتوں سے کیسے بھلایا جا سکے گا۔