یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناه چاہتے ہیں، ایسا کرنے سے تو ہم یقیناً ناانصافی کرنے والے ہو جائیں گے
En
(آیت79) {قَالَمَعَاذَاللّٰهِ …:} یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو پاس رکھنا بھی چاہتے تھے اور چور بھی نہیں کہنا چاہتے تھے، ان کی کمال ذہانت اور کمال صدق دیکھیے کہ دونوں معنوں پر مشتمل الفاظ میں بھائی کو ساتھ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ اس شخص کے سوا کسی اور کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، اس صورت میں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے اور ہم ظلم نہیں کر سکتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔